Pakistan Peoples Party Official

News, updates, events, photographs and other information

وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کا ایف ایم ریڈیو 105 پر انٹرویو 

Leave a comment

ہینڈ آئوٹ
کراچی (29 جولائی 2017) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہماری حکومت نے صوبے بھر کے روڈ انفرا اسٹرکچر کے کام پر توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے یہ بات آج بروز ہفتہ کو ایف ایم ریڈیو 105 کے سندھی پروگرام مہران رنگ میں براہ راست خصوصی انٹرویو میں کہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایف ایم ریڈیو 105پر عوامی مسائل پر فون کالز بھی وصول کریں اور انہوں نے پوچھے گئے سوالوات کے جوابات دیئے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی کے سڑکوں پر کیا گیا کام باقائدہ نظر آرہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ ورلڈ بینک کی ٹیم آگسٹ میں یہاں آرہی ہے، وہ سندھ کے دیہاتوں کو شمسی توانائی پر لانے میں مدد کریں گے۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ہماری حکومت کوئلے، ونڈ اور سولر انرجی پر کام کر رہی ہے، اس کے نتائج جلد سامنے آئیں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان تھا، یہ مسئلہ صرف سندھ کے اندرونی حالات کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ دوسرے صوبے اور دیگر ممالک کا بھی اہم کردار تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی سیاسی پاور اور سیاسی بصیرت سے یہ مسئلہ حل کیا ہے اور اس پر مزید کام جاری ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ سندھ کا دوسرا بڑا مسئلہ بیروزگاری کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نوجوانوں کو ابھی تک کوئی اچھے روزگار کے مواقع مہیا نہیں کر سکے ہیں، جس پر میں بے حد کام کر رہا ہوں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سرکاری محکموں کے علاوہ نجی شعبے میں بھی ملازمتیں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ سندھ احتسابی بل پر میڈیا نے یک طرفہ رائے قائم کی، یہ بل پاس کرنا اور اس کو نافذ کرنا ہمارا آئینی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف نے ایمرجنسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نیب قائم کیا، اصل میں یہ صوبائی سبجیکٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کرپشن کے سخت خلاف ہے۔ ہم وچ ہنٹ کے خلاف ہیں۔ اس وقت سندھ میں 12 وزراء اور ان سے بھی زیادہ افسران نیب کا سامنہ کر رہے ہیں، اور یہ ہی وجہ ہے کہ افسران نے کام چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن صرف سندھ میں نہیں بلکہ پورے ملک میں ہے، کیا اتنی کارروائیاں کہیں اور ہوئی ہیں؟۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ سندھ کو مفلوج کرنے کی سازش تھی، یہ کسی اور کی ایجنڈا تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مجبور کیا گیا کہ ہم اپنے قوانین بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز وزیراعظم کو سپریم کورٹ ہٹایا ، اصل ایکشن نیب کے خلاف ہونا چاہئے تھا، نیب مکمل طور پر ناکام ہوگیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت وزیر، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو انکے آفیشل کام کرنے میں تحفظ حاصل ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سانگھڑ سے نواب شاہ روڈ کی حالت خراب تھی، میں نے محکمہ ورکس اینڈ سروسز کو بلایا اور انہوں نے 64 روڈز کو چار ماہ کے اندر مکمل کرنے سے معذرت کی، لیکن میں نے خود نگرانی کی اور سڑکوں کو 5 ماہ کے اندر تعمیر کروایا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ میں نے اچھے انجنیئرز اور افسران کو اچھے عہدوں پر فائز کیا ہے، اس عمل سے بہتر کام ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں مجھے کام کرنے میں سہولت ملی، اسکا سبب پرائیویٹ شعبہ صحت میں ہاتھ بٹانے میں کارآمد ہے۔ جس کے باعث مجھے یہ کامیابی ہوئی ہے کہ اسپتالوں میں ادویات دستیاب ہیں اور اسپتالوں کی حالت قدر بہتر ہوئی ہے۔ شعبہ صحت میں 5000 سے زائد ڈاکٹرز کی بھرتی پر سندھ ہائی کورٹ نے خالی جگہوں کو پر کرنے کا آرڈر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شعبہ تعلیم کا مسئلہ اساتذہ ہیں، جو کلاسز لینے کے لیے تیار ہی نہیں۔ ہم بند اسکولز کو اچھے تعلیمی اداروں، آئی بی اے اور زیبسٹ کو دیں گے تاکہ وہ اساتذہ خود رکھیں اور انکو چلائیں، انکو تنخواہیں سندھ حکومت دے گی۔
عبدالرشید چنا
میڈیا کنسلٹنٹ وزیراعلیٰ سندھ

Advertisements

Author: PPP Social Media Cell /FAA

Official Social Media Cell of Pakistan Peoples Party

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s