Pakistan Peoples Party Official

News, updates, events, photographs and other information

سینیٹ میں معلومات تک رسائی کے حق کے قانون کا مسودہ پیش

Leave a comment

 

 

 

اسلام آباد
سینیٹ کی سپیشل کمیٹی برائے اطلاعات تک رسائی کا حق کے چیئرمین سینیٹر فرحت اللہ بابر نے آج سینیٹ میں اس بارے میں ایک رپورٹ اور معلومات تک رسائی کے حق کے قانون کا ایک مسودہ بھی پیش کیا۔ یہ مسودہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نہ صرف یہ تمام سیاسی پارٹیوں کا احاطہ کرے گا بلکہ یہ شہریوں کو اطلاعات تک رسائی کے قابل بنائے گا اور یہ اطلاعات نہ صرف یہ کہ وفاقی حکومت کے اداروں بلکہ پارلیمنٹ، عدالتوں اور ایسی این جی اوز تک وسیع ہے جو حکومت سے کسی بھی طریقے امداد لے رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ اس مسودے میں یہ شق شامل کی گئی ہے کہ نیشنل سکیورٹی کے نام پر کسی کو مکمل استثناءحاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لئے عالمی طور پر مسلمہ جھانسبرگ اصولوں کو تسلیم کیا گیا ہے جو نیشنل سکیورٹی پر عوام کی بہتری میں توازن پیدا کرتے ہیں اور کوشش کی گئی ہے کہ اس بات کا خاتمہ ہو کہ قومی سلامتی کے نام پر اطلاعات کو کسی طرح سے چھپا دیا جائے۔ اس قانون کے تحت تحریری طور پر وجوہات بیان کرنا پڑیں گے کہ قومی سلامتی عوام کی بہتری پر کس طرح فوقیت رکھتی ہے اور اس کے بعد بھی اس کو اطلاعات کے کمیشن کے سامنے چیلنج کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ قومی سلامتی کا اصول اس وقت لاگوں نہیں ہوگا جب اطلاعات کرپشن یا کسی شہری کی زندگی کو خطرات لاگو ہونے کے بارے میں ہوں۔ ڈیفنس پلاننگ، فوجوں کی تعیناتی اور دفاع کی عمارات وغیرہ جو کہ دفاع سے تعلق رکھتی ہوں کو استثناءحاصل ہوگا۔ اس بل میں ایک اطلاعات کا کمیشن بھی قائم کیا جائے گا جو اپیلوں کا فیصلہ کرے گا لیکن اس کے اراکین میں صرف عدلیہ سے تعلق رکھنے والے شامل نہیں ہوں گے۔ یہ بل اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ معلومات ظاہر کی جائے اور کم سے کم معلومات کو استثناءہو۔ یہ تمام ریاستی اداروں اور حکومتی امداد وصول کرنے والی این جی اوز پر لاگو ہوگا۔ معلومات چھپانے کے لئے جانتے بوجھتے سرکاری ریکارڈ کو ضائع کرنا ایک مجرمانہ فعل قرار دیا جائے جس کی سزا دو سال قید رکھی گئی ہے۔ وزیراعظم اطلاعات کے کمیشن کے اراکین کی تقرری کریں گے لیکن وہ یہ کام یکطرفہ طور پر یا کسی معاشرے کسی ایک خاص طبقے سے اس کا اراکین کا چناﺅ نہیں کیا جائے گا۔ اس کا ایک رکن سابق سول اور ملٹری بیوروکریسی سے ہوگا، ایک ریٹائرڈ جج ہوگا اور ایک رکن سول سوسائٹی کی تنظیم سے ہوگا۔ وزیراعظم کسی بھی رکن کو برطرف کرنے کا اختیار نہیں رکھیں گے بلکہ یہ اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہوگا۔ عوامی ریکارڈ میں رقوم کی نقل و حرکت، جائیداد کی خریدوفرخت، لائسنس لینا، الاٹمنٹ کرنا اور ٹھیکے دینا وغیرہ شامل ہوگا۔ اس میں فائلوں پر نوٹس اور اجلاس کے منٹس بھی شامل ہیں جبکہ متعلقہ امور حتمی طور پر طے پا چکے ہوں۔ یہ بل تمام قوانین اور متروک آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923ءکو ختم کر دے گا تاہم حقیقی مسئلہ قانون بنانے کا نہیں بلکہ راز رکھنے اور مقدم گائے کے کلچر کا ہے۔ مشرف کے دور میں سینیٹ میں کارگل کی انکوائری کے متعلق اور دفاعی افسران کے اثاثوں کو ظاہر کرنے کے بارے میں سوال پوچھے گئے اور یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا کوئی ایسا قانون ہے جس کے تحت آئی ایس آئی کام کرتی ہے تو اس کے جواب میں کہا گیا کہ ان سوالات کے جوابات قومی سلامتی کی وجہ سے نہیں دئیے جا سکتے۔ لیکن اب ایسے سوالات کو قالین کے نیچے نہیں پھینکا جا سکتا تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ ایسے سوالات کے جوابات طاقتور دیتے ہیں کے نہیں۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ وہ تمام لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اگر پارلیمنٹ سے یہ قانون پاس ہوتا ہے تو وہ سب اس کی عزت کریں۔ انہوں نے وزیر مملکت برائے اطلاعات اور کمیٹی کے تمام اراکین کی تعریف کی اور اس بل کو تیار کرنے میں ان کے کردار کو سراہا جس کی وجہ سے اس بل پر اتفاق رائے ممکن ہو سکا۔ بعد میں صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ تمام جج صاحبان قابل احترام ہیں لیکن ہم یہ تاثر نہیں دینا چاہتے کہ صرف جج صاحبان ہی ساکھ والے اور قابلیت والے ہیں۔ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اچھے اور بہترین قابل اور ساکھ والے لوگ معاشرے کے ہر طبقے میں موجود ہیں جو اس اطلاعات کے کمیشن کے رکن بن سکتے ہیں۔

 

Advertisements

Author: PPP Social Media Cell /FAA

Official Social Media Cell of Pakistan Peoples Party

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s