Pakistan Peoples Party Official

News, updates, events, photographs and other information

سکیورٹی اور آئیڈیالوجی کے بیانیے نے سول سوسائٹی کے لئے جگہ تنگ کر دی ہے اور شہری آزادیوں پر قدغن لگا دی ہے : سینیٹر فرحت اللہ بابر

Leave a comment

کراچی
پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے جمعرات کے روز کراچی میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کراچی میں پاکستان میں شہری آزادیوں کے لئے چیلنجز کے موضوع پر ایک سیمینار سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ سکیورٹی اور آئیڈیالوجی کے بیانیے نے سول سوسائٹی کے لئے جگہ تنگ کر دی ہے اور شہری آزادیوں پر قدغن لگا دی ہے اس لئے سیاسی پارٹیوں کو چاہیے کہ میثاق جمہوریت کی طرز پر بنیادی شہری آزادیوں کے لئے ایک چارٹر بنائیں۔ شہری آزادی کا مطلب آزادی اظہار اور کسی بھی ادارے یا تنظیم سے منسلک ہونے کی آزادی ہے۔ ان آزادیوں سے سول سوسائٹی کی تنظیمیں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں اور یہ بات یقینی بناتی ہیں کہ ریاست نے شہریوں سے جو معاہدہ کیا ہوا ہے اس سے احتراز نہیں کیا جا رہا لیکن صورتحال یہ ہے کہ سکیورٹی اور آئیڈیالوجی کے بیانیوں نے شہری آزادیوں پر قدغن لگائی ہوئی ہے۔ اسی لئے بلوچستان، کے پی کے، فاٹا اور سندھ میں شہری تسلسل سے غائب ہو رہے ہیں، ریاستی ایجنسیاں قانون کے دائرے کے باہر کام کر رہی ہیں اور قانونی عمل کے لئے جگہ تنگ ہو رہی ہے اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے ملازمین کے بنیادی حقوق جھٹلائے جا رہے ہیں کیونکہ صورتحال کو درست کرنے کی کوئی بھی کوشش نیشنل سکیورٹی مفادات کے خلاف تصور کی جاتی ہے۔ اسی طرح ترقی پسندانہ قانون سازی جیسا کہ بچوں کی شادی کا ایکٹ، زبردستی مذہب کی تبدیلی کا قانون، زنا بالجبر اور غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قوانین، خواتین کے تحفظ کا ایکٹ اور دفاتر میں خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف قانون سازی جیسے قوانین آئیڈیالوجی کے خلاف خطرہ کہہ کر ان کی مخالفت کی جاتی ہے۔ سیاسی پارٹیوں کو چاہیے کہ وہ شہری آزادیوں کے لئے کم سے کم نکات پر مشتمل ایک چارٹر بنائیں جیسا کہ ایک دہائی قبل میثاق جمہوریت کیا گیا تھا۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ بے عمل اور کمزور نیشنل کمیشن آن ہیومن رائٹس اور اطلاعات تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے بھی شہری آزادیاں مفقود ہوئی ہیں۔ پاکستان نے انسانی حقوق کے 9 معاہدوں میں سے 7پر دستخط کرکے ان کی توثیق کی ہے اور ہم نے جی ایس پی کے تحت وعدہ کیا ہے کہ
27بین الاقوامی معاہدو ں پر دستخط کریں گے۔ ہمیں ریاست کو اس کی ذمہ داری پوری کرنے کے لئے دباؤ ڈالتے رہنا پڑے گا تاکہ ریاست جن بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کرکے توثیق کر چکی ہے انہیں پورا کرے۔ اس ماہ کے اوائل میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے پاکستان سے کچھ سوالات پوچھے ہیں اور این سی ایچ آر کو تجویز دی ہے کہ وہ 2017ء کے اسٹریٹجک ایجنڈے کے لئے ایمانداری سے ان سوالات کے جوابات دے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی ایجنسیوں کو قانون کے دائرے میں لانا چاہیے اور جس طرح تسلسل سے افراد غائب ہو رہے ہیں اور میڈیا اور انسانی حقوق کے محافظوں پر حملے ہو رہے ہیں انہیں ہر صورت میں ختم ہونا چاہیے۔ اس ضمن میں سینیٹ کی جانب سے 2014ء میں کی گئی سفارشات کے مطابق عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسداد تشدد کا قانون سینیٹ نے پہلے ہی پاس کیا ہوا ہے اور اطلاعات تک رسائی کا قانون بھی سینیٹ کی کمیٹی برائے اطلاعات اختیار کر چکی ہے اور اسے جلد سے جلد پارلیمنٹ سے منظور کرنا چاہیے۔ انہوں نے سول سوسائٹی کی تنظیموں کے خلاف پروپیگنڈے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ تنظیمیں حق پر بنی ہیں اور کسی حکومت نے انہیں کام کرنے کی اجازت خیرات میں نہیں دی ہے۔ ریاست اور عوام ایک سماجی معاہدے کے تحت جڑے ہوئے ہیں اور یہ تنظیمیں اس وقت آواز بلند کرتی ہیں جب ریاست ان معاہدوں سے روگردانی کرتی ہے۔ یہ ان تنظیموں کا بنیادی حق ہے کہ وہ آئین کی کچھ شقوں پر اپنی آواز بلند کر سکیں۔ انہوں نے پوچھا کہ ججوں کی تقرری کے لئے 19ویں ترمیم پر کسی کو آواز اٹھانے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی؟ اگر کسی نے غیر مسلم کو وزیراعظم یا صدر نہ بنانے کے خلاف آواز بلند کی تو اس میں کیا برائی ہے کیونکہ آئین تمام شہریوں کو برابر کے حقوق دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام اور ریاست کے درمیان اگر یہ معاہدہ ختم ہو جائے تو پھر یہ تباہی کا باعث ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرید یونین کے بارے کچھ قوانین پر سینیٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی نظرثانی کرے گی۔ انہوں نے سول سوسائٹی کی تنظیموں سے کہا کہ وہ اس کمیٹی کی مدد کریں۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے اس بات پر زور دیا کہ فوجی عدالتوں کو توسیع دینے سے قبل ان کی کارکردگی کی چھان بین کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اس بات پر مکمل پردہ پڑا ہوا ہے کہ کسے پھانسی کی سزا کس جرم میں دی جا رہی اور کیا پھانسی پانے والے عام قاتل ہیں یا دہشتگرد ہیں؟ پھانسی کی سزاؤں کا اعلان ٹویٹ کے ذریعے ہوتا رہا ہے اور کسی کو بھی بشمول انسانی حقوق کمیشن کے نمائندوں کو بھی فوجی عدالتوں کی سماعتوں میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں کو توسیع دینے سے قبل یہ دیکھنا چاہیے کہ کہیں بنیادی قوانین کی خلاف ورزی تو نہیں ہو رہی؟

Attachments area
Click here to Reply or Forward
Advertisements

Author: PPP Social Media Cell /FAA

Official Social Media Cell of Pakistan Peoples Party

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s