Pakistan Peoples Party Official

News, updates, events, photographs and other information

 سپریم کورٹ انکوائری کمیشن رپورٹ کے بعد بھی قوم کا اعتماد بحال کرنے کیلئے اگر وفاقی وزیر داخلہ مستعفی نہیں ہوتے تو پوری قوم کو رونا پڑے گا: سینیٹر فرحت اللہ بابر  

Leave a comment

 

اسلام آباد
پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے اجمعرات کے روز سینیٹ میں کوئٹہ دہشتگردی کے واقعے پر جسٹس قاضی عیسیٰ کی رپورٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی انکوائری کمیشن کی رپورٹ نے داخلی سکیورٹی پالیسی کو منہدم کرکے رکھ دیا ہے اور اگر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لئے وزیر داخلہ مستعفی نہیں ہوتے تو پوری قومی کو رونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ داخلی سکیورٹی کی تیاری پر یہ رپورٹ خوفناک ہے اور اس سے زیادہ خوفناک وزیر داخلہ کا غیرذمہ دارانہ ردعمل اور زدی پن ہے جنہوں نے ملک کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کی امید ہے تو وہ وزیر داخلہ کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ امید وزیر داخلہ کے مستعفی ہوجانے سے بندھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا یہ کوئی سوچ سکتا ہے کہ وزیر داخلہ سپریم کورٹ سے یہ کہے کہ اسلام آباد میں کالعدم تنظیموں کی جانب سے عوامی جلسے کے وہ ذمہ داری نہیں اور ان کا یہ کہنا بھی کہ اس جلسے کی اجازت انہوں نے نہیں بلکہ پولیس نے دی تھی ایک مذاق ہے۔ کیا یہ سوچا جا سکتا ہے کہ نیکٹا کا سربراہ یہ کہے کہ تین سالوں سے نیکٹا کے بورڈ آف گورنر کا اجلاس نہیں ہوا تو وہ ذمہ دار نہیں بلکہ وزیراعظم اس کے ذمہ دار ہیں؟ کیا یہ بھی سوچا جا سکتا ہے کہ وزیرداخلہ یہ کہے کہ وہ ایک کالعدم تنظیم کے سربراہ سے ایک قانونی تنظیم کے ٹیم کے رکن کے طور پر ملے؟ وزیر موصوف کا یہ کہنا کہ کالعدم تنظیمیں نئے نام سے ابھر سکتی ہیں کیا عوام کو تحفظ کا احساس دلا سکتا ہے؟ کمیشن نے بھی اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ دو عسکری تنظیموںپر پابندی لگانے کے لئے جو خطوط لکھے گئے ان پر کوئی کارروائی نہیںہوئی اور کمیشن نے یہ درست کیا کہ دہشتگرد وں کی طرف جھکاﺅ رکھنے والے وزیر داخلہ سے سوالات پوچھے۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ وزیرداخلہ کالعدم تنظیموں کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ جب حکیم اللہ محسود مارا گیا تو وزیرداخلہ روئے اور ایک موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ مولانا عزیز کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوسکتی کیونکہ اس کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں۔ وزیرداخلہ جماعت الدعوة کا دفاع ایک ایسے عدالتی فیصلے سے کیا جس کا وجود ہی نہیں۔ وزیر داخلہ یہ کہتے ہیں کہ ان کی یہ ذمہ داری نہیں کہ نیکٹا کے بورڈ آف گورنر کا اجلاس بلائیں بلکہ یہ کہا کہ یہ ذمہ داری وزیراعظم کی ہے۔ کیا ذمہ داریوں سے دامن بچانے کی اس بڑی کوئی مثال ہو سکتی ہے؟ جسٹس قاضی عیسٰی کی رپورٹ وزیرداخلہ کے خلاف فرد جرم ہے اور وزیر داخلہ کی موجودگی میں ملک غیرمحفوظ ہے۔ اگر وہ مستعفی نہیں ہوتے تو انہیں برطرف کیا جانا چاہیے ورنہ پاکستان روئے گا۔
Advertisements

Author: PPP Social Media Cell /FAA

Official Social Media Cell of Pakistan Peoples Party

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s