Pakistan Peoples Party Official

News, updates, events, photographs and other information

جمہوریت کے 49برس – تحریر:وقاص شوکت

Leave a comment


پاکستان پیپلزپارٹی جمہوریت کی علمبردار۔۔۔جدوجہد،محنت،ترقی اور قربانی کا دوسرا نام، غریب،مزدور،کسان، ہاری، محنت کشوں کی آواز۔اس عظیم پارٹی کا قیام 30نومبر 1967کو لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر پارٹی کے بانی قائد شہید ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے دیگر ساتھیوں نے دو دن کے اجلاس کے بعد 30نومبر کو پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی، ان دو دنوں کے اجلاس میں پارٹی کے نام، جھنڈا اور اس کے رنگ، منشور، مشن،جدوجہد پر تفصیلی مشاورت کے بعد بنیادی اصولوں کا قیام عمل میں آیا۔تاریخ کی روح سے ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر چلنے والے اس اجلاس میں 250سو سے تین سو افراد شریک ہوئے تھے۔ جس میں میر رسول بخش تالپور، شیخ رشید، جے اے رحیم، کامریڈ غلام محمد، خان محمد، حیات محمدخان شیرپاؤ، پیر بخش بھٹو، میر حامد حسین، ، نثار احمد خان، معراج محمد خان، خورشید حسن میر، ممتاز کاہلو، شوکت علی جونیجو، غازی قدرت اللہ ،مولوی محمد یحیےٰ، مرتضیٰ کبیر، امان اللہ خان، راجہ منور احمد، ملک پرویز، فاروق بیدار، احمد رضا قصوری، عبدالرحمان، ملک نوید احمد، محمد احسن اور ملک حامد سرفراز سمیت دیگر افرادشامل تھے۔ شہید ذالفقار علی بھٹوسے لے کر ان کے تمام اراکین سراسر بائیں بازو کے لوگ تھے۔جو اس بات سے باخوبی واقف تھے کہ اس ملک میں جمہوری نظام کا قیام اور اس کا فعال ہونا کوئی آسان نہیں تھا یہ تو بس ایک اچھے عمل کی شروعات کی بنیاد ڈالی گئی تھی ،جیسے جیسے وقت گزرتا گیا پارٹی کو اچھے برے دنوں میں آمریت کے ڈنڈے ،جیلوں،کوڑوں ،آفروں،لوگوں کے نظریات ، سو چ،لالچ بدلتے رہے اور لوگوں نے جمہوریت کا سودا کر کے پیپلز پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی۔مگر اس جمہوری کاوشوں میں شہیدذوالفقار علی بھٹو نے کبھی منہ نہیں موڑاکیونکہ کہ وہ جانتے تھے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہے ۔ پیپلز پارٹی نے 49 سالوں میں ملک کے ساتھ وفاداری،محب وطنی اور عوام کے لئے ایسے مثالی کام کئے جو رہتی دنیا تک ان کے نام ہی رہے گی۔جمہوری دشمنوں نے پیپلز پارٹی کے قائدین سے لے کر ورکروں تک بے تحاشہ تشدد، اذیت، سزائی ،یہاں تک کے اس کے قائد تک کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے شہید کر دیا مگر یہ ایک عوامی پارٹی تھی جو کسی بادشاہ کے محل یا جاگیر دار کے ڈیرے پر نہیں بلکہ غریب عوام کی جھونپڑی سے شروع ہوئی اور اس کو ختم کرنے والوں کے خواب وقت کے ساتھ چکنا چور ہو گئے ، تو انہوں نے اس پارٹی کی مقبولیت کے ڈر سے بے تحاشہ منفی پروپیگنڈے کئے،انہوں نے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں 18کروڑ عوام کے منتخب کردہ جماعت کو کام نہیں کرنے دیا کبھی عدالتوں کے چکر لگوائے، تو کبھی جھوٹے کیسز ڈال کر سالوں سال ان کو کورٹوں میں گھسیٹتے رہے ،بیشک جھوٹ کا بول بالا ہوتا ہے مگر جھوٹ تو جھوٹ ہوتا ہے اور سرخروں ہمیشہ سچ اور حق ہی ہوتا ہے ، آج پیپلز پارٹی کا نام کام ایسی بات کی ضمانت ہے جو آج بھی لوگوں کے دلوں میں محصور ہے اور بھٹو کو زندہ رکھا ہوا ہے۔پیپلزپارٹی نے اپنے دور حکومت میں پاکستان کی ترقی کے لئے مثالی کام سرانجام دیئے ۔ جن میں سے کچھ پر نظر ثانی کیونکہ ہماری آنے والی نسل کو بھی معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان کی ترقی کا سہرا صرف اور صرف پیپلز پارٹی سے ہے۔
*۔۔۔ایٹمی پاور پلانٹ کی بنیاد
*۔۔۔زرعی اصلاحات، قانونی اصلاحات،معاشی اصلاحات۔
*۔۔۔1973کا آئین پاکستان دیا۔
*۔۔۔قائداعظم یونیورسٹی ،علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا قیام
*۔۔۔اسلامی سربراہ کانفرنس کا انعقاد ۔
*۔۔۔عالمی سیرت کانفرنس کا انعقاد
*۔۔۔اسلامی دنیا کے تمام ممالک کو متحد کرنے کی کوشش
*۔۔۔دنیا کے غریب ممالک کو متحد کرنے کیلئے تیسری دنیا کا تصور
*۔۔۔93 ہزار جنگی قیدیوں کی رہائی
*۔۔۔شملہ معاہدہ
*۔۔۔لیبر پالیسی 
*۔۔۔نیشنل بک فاؤنڈیشن
*۔۔۔چین کے تعاون سے ٹیکسلا ہیوی کمپلیکس کا قیام عمل میں آیا۔
*۔۔۔پاکستان اسٹیل کی تعمیر شروع ہوئی۔
*۔۔۔پورٹ قاسم کی تعمیر شروع ہوئی۔۔
*۔۔۔کامراہ میں بیراج ری بلڈ فیکٹری کا قیام۔
*۔۔۔سینڈک کے منصوبے پر کام شروع ہوا۔
*۔۔۔کراچی شپ یارڈ کی توسیع اور جہاز سازی کی ابتدا ہوئی۔۔
*۔۔۔کھاد کے مختلف کارخانوں کی تعمیر شروع ہوئی۔
*۔۔۔ تربیلا ڈیم کی توسیع اور تکمیل ہوئی۔
*۔۔۔چشمہ بیراج کی تعمیر ہوئی۔
*۔۔۔شاہراہ قراقرم کی تعمیر چین کے تعاون سے مکمل ہوئی۔
*۔۔۔کراچی پہلی اراضی مواصلاتی اسٹیشن مکمل ہوئی۔
*۔۔۔بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں 150کلو واٹ کا میڈیم ویوٹرانس میٹر کی تنصیب ۔
*۔۔۔لاہور میں ڈرائی پورٹ کا قیام۔
*۔۔۔پورے ملک میں تیل اور گیس ی دریافت کے لئے بڑے پیمانے پر کام شروع ہوا اور بڑے ذخائر دریافت ہوئے۔
*۔۔۔پورے ملک میں عام سڑکوں سے کھیتوں سے منڈی تک کا سڑکوں کا جال، پلوں کی تعمیر۔
*۔۔۔پاکستان نیشنل سینٹر کی تعمیر
*۔۔۔اسلامی سربراہی کانفرنس کا عمل اور لاہور میں 160 فٹ اونچا میناربنایا گیا۔
*۔۔۔کراچی میں عباسی شہید اسپتال، لیاری جنرل اسپتال اور پشاور میں محمد حیات محمد شیرپاؤ اسپتال کی تعمیرکروائے۔
*۔۔۔ایک سو 21ارب کا پیکیج ڈیولپمنٹ
*۔۔۔فاسٹ یونیورسٹی قیام
*۔۔۔ملیر ڈیولپمنٹ اور لیاری ڈویلپمنٹ کا قیام
*۔۔۔تھرکول کامنصوبہ
*۔۔۔18 ترمیم،صوبوں کو اختیار منتقل
*۔۔۔پاک ایران گیس پائپ لائن
*۔۔۔ پڑوسی ممالک سے معاشی اور بہتر تعلقات
*۔۔۔کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق
*۔۔۔جدید اسپتال،تعلیم درس گاہیں،روزگار کے مواقع
اور ایسے کتنے ہی کام ہے وہ قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں ہوئے ہوں، محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے دور میں ہوئے ہوں یا آصف علی زرداری کے دور میں ہوئے ہوں، ملک پاکستان کی باشعورعوام سے لے کر یہ پاک وطن کی مٹی اس کی وفاداری کا ثبوت دیتے رہی گی۔پاکستان میں بسنے والی جماعتیں جو جمہوریت کی آڑ میں جمہوری دشمنوں کے حکم کی تکمیل کے لئے جمہوریت کی راہ میں روڑے اٹکاتے آئے ہیں اور ہمیشہ کروڑوں عوام کے ووٹوں اور ملک آئین کے ساتھ غداری کر کے چور دروازے سے جمہوریت کا گلہ گھونٹے کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔مگر پیپلز پارٹی کے قیام سے لے کر آج تک پی پی نے کبھی جمہوری عمل کو سبدوش نہیں ہونے دیا اور ہمیشہ آئین اور جمہوریت کی لاج رکھی ہے۔
پارٹی کے چاربنیادی ستون طے کئے گئے جو پاکستان پیپلز پارٹی کے سیاسی فلسفے کا نچوڑ ہیں۔
ا: اسلام ہمارا دین ہے
۲: جمہوریت ہماری سیاست ہے
۳: سوشلزم ہماری معیشت ہے۔
۴: طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں۔ (بعد میں پانچواں اہم ستون کا اضافہ کیا گیا)
۵: شہادت ہمارا عمل ہے۔
شہید ذوالفقار علی بھٹو اور اس کے خاندان نے اس ملک کے لئے کبھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ملک کی خاطر اپنا خون ،پسینہ ،گھر ،بچے،آرام وسکون سب برباد کر دیا ،وہ مارشل لاء ہو،یا آمریت کا کٹھن دور ہر مقام پر آگ کا دریا عبور کیا اور ایک ایسی سیاسی سوچ کو اجاگر کر دیا جسے پاکستان میں بسنے والی تمام سیاسی پارٹیوں نے اپنایا۔ملک پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے والے اسلامی سربراہ کانفرنس کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا، ان کے ایک بیٹے کو زہر تو دوسرے کو بیدردی سے گولیاں ماری گئی ، ملک پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم کا اعزاز حاصل کرنے والی شہیدمحترمہ بینظیر بھٹو کو روالپنڈی کے لیاقت باغ میں خاموش کر دیا گیااور اس تمام مظالم کا گھونٹ ایک ماں بیگم نصرت بھٹو جس کے جوان بیٹے کو زہر دے کر اس کے دست بازو اور لخت جگر کو الگ کیا گیا پھراس کے بے گناہ شوہر کو قتل کر دیا گیا،پھر ایک بیٹے کو کراچی میں بے دردی سے مار دیا گیا اور ایک معصوم سی پنکی بھی دشمنوں کے عزائم سے نہ بچ سکی۔ یہ وہ درد ہے جو صرف ایک ماں ہی جان سکتی ہے کہ کس طرح زندگی نے اسے پے در پے مارا اور اتنا ظلم کیا کہ وہ خود حواس بے ساختہ ہوگئی۔مگر اپنے شوہر اور بچوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں ہونے دیا نہ کبھی ان کے مشن کو چھوڑااورنہ بھٹوازم کے پیروکاری کو احساس ہونے دیا۔
آج پاکستان پیپلز پارٹی کو 49 برس ہوچکے ہیں مگر بھٹو ازم کا عالم تھامے کتنے ہی جانثار کارکن وجیالے اپنے قائد کی محبت اور منشورکی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ دیتے چلے آئے ہیں اور اس خاندان کی محبت،وفاداری سے نسل در نسل جوڑے ہوئے ہیں۔پیپلز پارٹی نے اپنے لمبے سیاسی دور میں کبھی ملک پاکستان،ملکی قانون اور اس ملک میں رہنے والے افراد کا ساتھ نہیں چھوڑا۔پاکستان پیپلز پارٹی ملک پاکستان میں قائم تمام سیاسی پارٹیوں اور ان کے لیڈروں کے لئے ایک سیاسی درس گاہ کے طور پر نمودار ہے۔جس سے پاکستان میں سیاسی پارٹی کے قائدین سے لیکر کارکنان افادہ حاصل کررہے ہیں۔
آج یہ عالم شہید ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے،بی بی شہید محترمہ بینظیر بھٹواور مرد حرسابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کا بیٹا چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری تھامے ان لاکھوں،کروڑوں متوسط طبقے کی آس اور ایک امید کی کرن بن کر پاکستان کے لئے تگ ودو جدوجہد میں مصروف عمل ہے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کردار اور سیاست اس کے آنے والے دنوں کی عکاسی کرتے ہیں کہ بی بی شہید کی پرورش ان کو اس ملک کا اور اس ملک کی عوام کا سہارا بننے ان کی مشکلات حل کرنے، غریب کی آواز بنے ان کو حق دلانے کیلئے ہر اول دستہ کا کردار ادا کریگا۔بلاول بھٹو زرداری پاکستان کے سب سے کم عمر قائد ہے جو پاکستان کی سب سے بڑی جمہوری پارٹی کی سربراہی کررہے ہیں اور جب سے انہوں نے یہ عالم تھامہ ہے پیپلز پارٹی سے ناراض لوگ اور مختلف جماعتوں اور دیگر قوموں کی برادریاں بھی ان سے کسی نہ کسی طرح ملنے کے لئے بیتیاب اور پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑے ہونے کو تیار ہے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s