Pakistan Peoples Party Official

News, updates, events, photographs and other information

جہانگیر بدر ۔۔۔سیاست کا دیدہ ور ۔ وقاص شوکت

Leave a comment

 

جہانگیر بدر ۔۔۔جمہوری سیاست کی جہانگیریت کا درخشاں ستارہ ۔۔۔ اب ہم میں نہیں رہا۔۔۔لیکن اس کا سیاسی کردار جمہوریت کی بقا اور ترویج کے لئے اس کی شاندار جدوجہد سیاسی طالب علموں کی آنے والی نسلوں کے لئے ایک مکمل درسگاہ کی حیثیت سے قائم رہے گی۔تاریکیوں کا دور مارشل لاء ہو یا تنگیوں اور ایمرجنسیوں کے تازیانے ہوں،چلچلاتی دھوپ میں آزادیءِ جمہورکے لئے پابجولاں تحریک ہویاجیل کی کال کوٹھری میں گزارے جانے والے قرب ناک لمحات ہوں، جہانگیر بدر نے انسانی معاشرے کی معراج یعنی جمہوریت کو شرمندہ نہ ہونے دیا۔

کردار ہی کی بات ہے وگرنہ عارف

قد میں تو سایہ بھی انسان سے بڑا ہوتا ہے

سیاسی طالب علموں کے لئے بلخصوص اور زود فراموش ہمعصروں کی یاد دہانی کے لئے جہانگیر بدر کی سیاسی جدوجہد، بصیرت اور تابناک مستقبل کے لئے شبانہ روز جدوجہد کا ایک اجمالی جائزہ پیش خدمت ہے۔جہانگیر بدر 25اکتوبر 1944 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ زمانہ طالب علمی سے ہی بڑے پرجوش اور دلیر رہے۔جہانگیر بدر کا سیاسی سفر نصف صدی پر محیط رہا۔70 کی دہائی میں طلبہ سیاست سے آغاز کیا یہ وہ دور تھا جب طلبا سیاسی محاذ پر سرگرم کردار ادا کررہے تھے۔ جہانگیر بدر بھی ان طالب علم رہنماؤں میں سے ایک تھے جو فیلڈ مارشل ایوب خان کے خلاف چلنے والی طلبہ تحریک کی صف اول کی قیادت میں شامل تھے۔جہانگر بدر زمانہ طلب علمی سے ہی سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔ وہ لاہور میں یونیورسٹی کے ایام میں طلبہ یونین کے صدر بھی منتخب ہوئے تھے ۔پہلے کالج سے کامرس کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔بطور نوجوان1966میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی قائد ذوالفقار علی بھٹوسے ملے اور پھر پیپلز پارٹی کا ساتھ کبھی نہ چھوڑا اور پاکستان پیپلز پارٹی نے انہیں وقتاً فوقتاً اہم ذمہ داریاں سونپی جاتی رہیں۔

جہانگیر بدر سیاست سے ہٹ کر بھی کچھ نہ کچھ کرتے رہتے تھے ، فرصت ملی تو پنجاب یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس میں پی ایچ ڈی کرنے کے لئے داخلہ لے لیا، ان کے تھیسز کا موضوع، پولیٹیکل لیڈر شپ ، اے کیس سٹڈی آف بے بینظیر بھٹو تھاآخری دنوں تک وہ محترمہ کے ساتھ ہونے والی اپنی خط وکتابت کو یکجا کررہے تھے۔لکھنے کا بہت شوق تھا اور مشرق اخبار میں ’’ یونیورسٹی راؤنڈ اپ‘‘ کے نام سے ہفتہ وار کالم لکھتے۔شعر وشاعری ،مطالعہ اور کتابیں پڑھا کرتے تھے اکثر اوقات پارٹی پرگراموں اور سول سوسائٹی کی تقریبات میں یہ شعر بہت پڑھا کرتے تھے۔

کون کہتا ہے موت آئی تو مرجاؤں گا

میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا

1970 میں یحییٰ خان کے دور آمریت میں جہانگیر بدر کو پورا سال جیل میں رکھا گیا۔8اگست 1977ء کو بھٹو صاحب جنرل ضیا کے مارشل لا کے بعد لاہور آئے تو عوام کے جس جم غفیر نے ان کا استقبال کیا ان میں جہانگیر بدر بھی پیش پیش رہے جس کے باعث انہیں گرفتار کر لیا گیا ۔ ایک سال قید اورکوٹ لکھپت جیل میں پیٹھ پر15کوڑوں کی سزا ہوئی وہ عموماً اس بات پر فخر محسوس کرتے تھے کہ وہ کوڑے انہیں خوش قسمتی سے بھٹو صاحب کے سیل کے باہر مارے گئے۔قبل ازیں 1977ء میں شادی ہو چکی تھی۔شادی کے صرف چار ماہ بعد ہی جیل میں ڈال دیا گیا۔انہیں پہلے بیٹے کی پیدائش کا علم بھی جیل میں ہی ہوا۔1978 میں چند دنوں کے لئے رہائی عمل میں آئی ہی تھی کہ ایک بار پھر پابند سلاسل کر دیا گیا۔1979ء میں بھٹو صاحب کی شہادت کے بعد رہائی ملتے ہی 1981ء میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا دو برس بعد یعنی 1983 میں جیل سے باہر آئے لیکن زیادہ دن نہیں گزرے ہوں گے کہ جیل کی سلاخیں نے ایک بار پھر جکڑ لیا۔ 1984 میں رہائی عمل میں آئی اسی برس دوبارہ انہیں دھر لیا گیا اور 1985ء میں رہا ہوا۔ آخری بار 1987ء میں گرفتار کیا گیا۔ 1988 میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت میں وزیر بن گئے۔

جہانگیر بدر کا شمار پاکستان میں ان سیاستدانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے کبھی سیاسی وفاداریاں تبدیل نہیں کی اور نہ آمریت کے سامنے سر تسلیم خم کیا۔ چاہے وہ ایوب خان، یحییٰ خان اور پرویز مشرف کا آمریت کا دور ہو۔ ان کی حالیہ ترین قید جنرل مشرف کے دور حکومت میں تھی وہ اکثر سیاسی وابستگی اور سیاسی سرگرمیوں کی بنا پر ہی پابند سلاسل کئے جاتے رہے ہیں۔پارٹی کے ہر مشکل وقت میں ہمیشہ مخالفین کے لئے سیسہ پلائی دیوار ثابت رہے اور پیپلز پارٹی نے بھی ہمیشہ ان پر بڑی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ خوب بھروسہ کیا۔ جہانگیر بدر کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے پیپلز پارٹی کے بانی قائد ذوالفقار علی بھٹو شہید، بیگم نصرت بھٹو، محترمہ بینظیر بھٹو شہید ، سابق صدر آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ بھی اپنی سیاسی سرگرمیاں عروج پر رکھی اور انہوں نے پیپلز پارٹی کی تین نسلوں کے ساتھ وفاداریوں کا ثبوت تا مرگ نبھایا۔72برس کی عمر میں لاہور اچانک وفات سے پیپلز پارٹی کے لئے ایک بڑا نقصان ثابت ہوا وہ اپنے دور میں پارٹی کے مختلف عہدوں پر فائز رہے۔

جہانگیر بدر1988 پہلی مرتبہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ سے لاہورمیں قومی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہوئے۔

1994ء اور 2009 میں سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔

وہ کافی عرصہ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر رہے۔

ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے وزیر بھی رہے،سائنس وٹیکنالوجی کا پورٹ فولیو بھی سنبھالا

وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم وقدرتی وسائل بھی رہے تھے۔

وہ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر اور بعد ازاں مرکزی جنرل سیکریٹری بھی رہے۔

وہ مختلف انتخابات میں رکن قومی اسمبلی اور سینیٹر بھی منتخب ہوئے ۔ وہ بینظیر بھٹو کی وزارت عظمی کے دوران وفاقی وزیر کے طور پر کابینہ کا حصہ رہے ، بطور سینیٹر انہوں نے ایوان بالا کی مختلف قائمہ کمیٹیوں کے لئے بھی خدمات سرانجام دیں۔

 

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s