Pakistan Peoples Party Official

News, updates, events, photographs and other information

Complete text of Chairman PPP speech on 37th martyrdom anniversary of SZAB

Leave a comment

بسم اللہ الرحمن رحیم
السلام وعلیکم
نعرہ تکبیر ۔۔۔۔ اللہ اکبر
نعرہ رسالت۔۔۔ یا رسول اللہ
نعرہ حیدری۔۔۔ یا علی
نعرہ بھٹو۔۔۔ جئے بھٹو
شروع کرتا ہوں اللہ کے پاک نام سے۔۔۔
جس کے قبضے میں میری جان ہے۔۔۔
وہی جو عزت اور ذلت دینے والا ہے۔۔۔
وہی جو ظالموں کا پردہ چاک کرنے والا ہے۔۔۔
وہی جو مظلوموں کو بلند مقام عطاء کرنے والا ہے۔۔۔
وہی ہے جو مظلوم و مقتول کو شہادت کے رتبے پر فائذ کرتا ہے۔۔۔
گڑھی خدا بخش کے شہیدوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے،،،
ہم ہر سال ان شہیدوں کو سلام کرتے ہیں،
جن کے لہو کی تابنی سے پاکستان کا چہرہ روشن ہے۔۔۔
پورے پاکستان سے آنے والے بھٹو شہید کے پروانو،،
بی بی شہید کے جان نثاروں اور میرے جیالے ساتھیو،
تمہیں شہیدوں کا وارث سلام کرتا ہے۔۔۔
دوستو،،،
آج 4 اپریل ہے، 4اپریل ہو یا 27دسمبر،،، آپ بڑی تعداد میں جمع ہوتے ہیں،،، لیکن،،،
آج بھی ہم سب کا، ایک ہی سوال ہے، کے، یہ قبرستان،،، یہ دور دراز کا علاقہ یہ راستے کی مشکلیں،،،
کیا وجہ ہے۔۔۔؟
کیا یہ لاکھوں لوگ، پروانوں کی طرح ان شہیدوں کے مزار پر کھینچے چلے آتے ہیں،،،
جئے بھٹو، جئے بھٹو کا نعرہ لگاتے ہیں۔۔۔
اس ذوالفقار علی بھٹو کو شہید بھٹو کہتے ہیں۔۔۔
جسےِ غلام عدالتوں نے تختہ دار تک پہنچا دیا۔۔۔
مگر آپ بار بار کہتے ہیں،،،
بے گناہ،، بے گناہ ہمارا قائد بے گناہ،،،
سنو، میرے دوستو،
آج شہید بھٹوکا وارث، اپنے شہیدوں کے مزار کے سامناے کھڑا ہے۔۔۔
میں اکثر سوچتا ہوں، میرے ذہن میں سوال اُٹھا ہے، کے،،
آخر کیوں میرے نانا کو ایک عدالتی حُکم کے ذریعے قتل کیا گیا،،،
میرے 2(دو) جوان ماموں سے جینے کا حق چھینا گایا۔۔۔؟
میرے بابا کو (11) گیارہ سال تک جیل میں کیوں بند کیا گیا۔۔؟
میں سوچتا ہوں کے،،،
میری ماں،، ایک عورت اور اس ملک کی (2) دو بارمنتخب ہونے والی خاتون وزیراعظم کو،
دن کے اُجالے میں اپنے عوام کے درمیان کیوں مار دیا جاتا ہے۔۔۔؟
آخر ہمارا جرم کیا ہے۔۔۔؟
ہمارا گناہ کیا ہے۔۔۔؟
ہمارا قصور کیا ہے۔۔۔؟
میں پوچھتا ہوں آخر کیوں۔۔؟
میں پوچھتا ہوں عدالتوں سے۔۔۔؟
میں پوچھتا ہوں اسٹبلشمینٹ سے۔۔۔؟
میں پوچھتا ہوں سیاسی جماعتوں سے۔۔؟
آج میں بتاتا ہوں کے شہید ذوالفقار علی بھٹو کا۔۔۔؟
تمہارے قائد کا کیا قصور تھا۔۔؟
شہید ذوالفقار علی بھٹو نے، عوام کو سمجھایا کے طاقت کا سرچشمہ عوام ہے۔۔
شہید ذوالفقار علی بھٹو نے، عوام کوشعور دیا کے متحد ہو کر اپنے حقوق چھین لو،،،
اس کا قصور یہ تھا، کے (نوے ہزار) پاکستانی، جنگی قیدیوں کو دشمن کی قید سے نکال لیا،،
اس کا قصور یہ تھا کے پاکستان کا (ساڈھے پانچ ہزار) میل رقباء دشمن سے واپس لیا،،،
اس کا قصور یہ بھی تھا، کے،،،
پاکستان کو پہلا متفقہ آئین دیا۔۔۔
اس کا بڑا جرم یہ بھی تھا،کے اس نے سرداری، جاگیرداری اور وڈیرا شاہی کو ختم کر کے لینڈ ریفورم دیا،
اور بے زمین ہاریوں کو مفت زمین دیکر مضبوط کیا۔۔۔
اس کا ایک بڑا قصور یہ بھی تھا،، کے لیبر پولیسی بنا کر مزدوروں کو سرمائے دار کے شکنجے سے آزاد کرایا،،،
اور سب سے بڑا قصور تو یہ بھی تھا،،، کے ملک کے دفعہ کے لئے، ملک کو اٹامک طاقت بنایا،،،
اس کے ساتھ ساتھ، بے روزگاری کے خاتمے کے لئے ا سٹیل ملز،
ہیوی میکینکل کمپلکس،
کمراہ Aeronautical سمیت نا جانے کتنے پروجکٹس دےئے۔۔۔
اس نے غریب کے ہاتھ کو طاقت دی، اس نے غریب کی زبان کو الفاظ دےئے،
اس نے غریب کی آنکھوں کو روشنی دی،
اس نے غریب کو سکھایا کے،،
’’بول کے لب آزاد ہیں تیرے
بول زبان اب تک تیری ہے‘‘
تختہ دار پر بھٹو کی صرف لاش نہیں تھی،،
وہ پاکستان کے لاکھوں عوام تھے،
جنہیں تم نے سولی پر لٹکا دیا۔۔
لیاقت باغ کی سڑکو پر شہید بی بی کا صرف خون نہیں تھا بلکہ وہ کروڑوں غریبوں کی اُمید اور اُمنگوں کا رنگ تھا، جو لہو بن کر بہہ گیا۔۔۔
یاد رکھنا بھٹو کا قتل ایک انسان کا قتل نہیں تھا، یہ انسانیت کا قتل تھا۔
یہ پاکستان کے غریب عوام کا قتل تھا،
یہ میرے ملک کے آئین کا قتل تھا،،،
یہ جمہوریت کا قتل تھا،،، اور اس قتل کی سزا ہم آج بھی بھگت رہے ہیں۔۔۔
دوستو!!!
آج ہم دنیا میں کہاں کھڑے ہیں،
کیا ہمارے وزیراعظم کو اس کی خبر بھی ہے؟
میاں صاحب!
جس شخص نے، پاکستان کا آئین، ایک نہیں دو مرتبہ توڑ ا، آپ نے کس طرح آرٹیکل 6کے اس مُلظم کو، قوم کے اس غدار کو، ملک سے باہر کیسے جانے دیا؟
عوام آپ سے سوال کرتی ہیں،
کے جس ڈکٹیٹر کو ہم نے صدارت کی کرسی سے اُتار کر آپ کے حوالے کیا تھا، وہ آج کہاں ہیں؟
عوام پوچھتی ہیں، کیا اُن کی بہن شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کا مُلظم، ملک سے کیسے بھاگ گیا؟
آج عدالتیں بھی سوال کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں، کیا اُس غدار کی واپسی کی ضمانت کون دیگا؟
آج ہمارے پاکستان میں دو نظام کیوں ہیں؟
مشرف کے لئے الگ نظام اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لئے الگ نظام۔۔۔۔
میاں صاحب!!
آپ تو کہتے تھے کشکول توڑ دیں گے،
بھیک نہیں مانگیں گے،
بڑے شوق سے کہتے تھے۔۔۔
”اے طاہرلاہوتی
اس رزق سے موت اچھی۔۔۔”
اس کا کیا ہوا؟
پاکستان کی 60(ساٹھ) سالہ تاریخ میں،
اُتنا قرض نہیں لیا گیا، جتنا آپ نے اس حکومت میں لے لیا ہے۔۔۔
پاکستان کی تاریخ کے پہلے 60(ساٹھ) سالوں میں 4.5 (ساڑھے چار) کھرب روپے کا قرض لیا گیا۔۔۔
میاں صاحب،،
آپ نے اپنی حکومت کے صرف 3(تین) سالوں میں ہی، 4.5 (ساڑھے چار) کھرب روپے کا قرض لے لیا،،
پاکستان کی 60 (ساٹھ) سالہ تاریخ کا پورا قرض ایک طرف،،
آپ نے تین سال کا قرض ایک طرف!!
ہر روز پاکستان کی عوام کے نام پر،،،
آپ 5(پانچ) عرب روپے کا قرض اُٹھا رہے ہیں!!
یومیا!!! 5بلین (عرب) روپے!!
قوم کو بھکاری بنا دیا گیا ہے۔۔۔
اگر دنیا میں تیل کی قیمتیں نہ گرتی تو، پاکستان آج دیوالیہ ہو چکا ہوتا!!
پاکستان میں پیدا ہونے والا، ہر ایک بچہ، لاکھوں روپے کا مقروض ہوگا۔۔۔
یہ کیسا کشکول توڑا ہے آپنے۔۔۔
میاں صاحب،
غریب روٹی مانگتا ہے، تو آپ اُسے جنگلہ بس دِکھا دیتے ہیں،،
غریب صحت اور تعلیم کی سہولت چاہتا ہے، تو آپ اورنج لائن دِکھا دیتے ہیں،
پورے ملک کا سرمایا اُٹھا کر آپ نے ایک شہر کے چند حصوں میں لگا دیا،،
مجھے بتائیں کے، عوام پوچھیں تو کس سے پوچھیں، کے اُن کا دیا ہوا ٹیکس کہاں گیا؟
آپ کے نزدیک غریب سے ٹیکس لینے اور غریب کو ٹیکس معاف کرنے کا نام بجٹ ہے،
پی پی پی ایسے ہر بجٹ کو رجیکٹ کرتی ہے،
جو غریب کے مُنہ سے نوالہ چھین کر، امیر کے خزانے بھرتا ہو،
اور پرایؤٹائزیشن کی آڑ میں، ہمارے ملک کے اثاثے اپنے دوستوں میں بانٹ رہے ہیں۔۔۔
ہم ایسی طرزِ حکومت کو نہیں مانتے۔۔
خودکے لئے میرے مظلوم عوام کو لوٹنا بند کریں،،،
خدا کے لئے میرے ملک میں انصاف کا راستہ نہ روکیں،،
کہیں ایسا نہ ہو، کے آپ کی وجہ سے، ایک بار پھر جمہوریت کی بِساط کو لپیٹ دیا جائے، اگر آپ کو مشکل ہے تو صدر زرداری سے سیکھ لیں کے جمہوریت کا قافلہ منزل تک کیسے پہنچتا ہے۔
آج بے روزگاری اپنی بدترین صورت اختیار کر چکی ہے۔ میرے ملک کے نوجوان ڈگریز ہاتھوں میں لے کر اپنا مستقبل تلاش کر رہے ہیں اور آپ کو غیر ملکی دوروں سے ہی فرست نہیں،،
میاں صاحب،،
کبھی پارلیمنٹ کے دورے پر بھی آ جایا کریں،،، لوگ آپ سے سوال کرنا چاہتے ہیں۔
میرے بھائیو اور بہنوں،،،
یہ حکومت کنفیوزڈ حکومت ہے،،
نون لیگ حکومت کی کوئی واضح پولیسی نہیں ہے،،
اس حکومت میں یہ اہلیت نہیں کے وہ ان حالات کا مقابلہ کر سکے۔۔
نون لیگ کی دہشتگردی کے خلاف کوئی واضح پولیسی نہیں ہے۔۔
نہ تو ان کو خارجہ پولیسی کا علم ہے،
اور نہ ہی اندرونی پولیسی کا،
حکومت کی رِت کہیں نظر نہیں آتی،
جب چاہے مٹھی بھر افراد، ملک کے کپیٹل کو یرغمال بنا لیتے ہیں،
آپ کی گڈ گورننس کا پول کُھل چکا ہے۔۔
وزیر داخلہ کا مُنہ ایک طرف ہے تو
وزیر دفعہ کا مُنہ دوسری طرف،،،
بڑے میاں تو بڑے میان،،
چھوٹے میاں،، سبحان اللہ۔۔
میرے ساتھیو،،،
یہ اُس وقت سوچتیں ہیں جب دہشتگرد اپنے کام کر چکے ہوتے ہیں،،
یہ انتظار کرتے ہیں، کسی بڑے سانحہ کا،،،
آپ کو یاد ہوگا کے، میں دہشتگردی کے خلاف سخت قدم اُٹھانے کے لئے کہتا رہا،،،
میں نے کہا تھا، کے ان سے خیر کی اُمید مت رکھو، مگر یہ حکومت نہیں مانی، اور پھر اے پی ایس کا سانحہ ہو گیا،
تو ان کو نیشنل ایکشن پلان یاد آگیا، اور آپریشن شروع کیا گیا۔۔
27دسمبر کو اس جگہ کھڑے ہو کر میں نے کہا تھا، کے،
نیشنل ایکشن پلان کو نون لیگ ان ایکشن پلان مت بناؤ، اور اسے پورے ملک میں نافذ کرو، مگر یہ نہیں مانے
اور چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی اور لاہور کے گلشن اقبال پارک کا سانحہ ہو گیا۔۔۔
میاں صاحب،،، اور کتنے سانحہ کا انتظار ہے آپ کو۔۔۔
میں پوچھتا ہوں کہاں ہے نیشنل ایکشن پلان،،؟
وہ نیشنل ایکشن پلان جس پر تمام سیاسی جماعتیں متفق تھیں،،،
نیشنل ایکشن پلان صرف ضربِ عضب نہیں،
صرف دہشتگرد وں کے خلاف آپریشن کا نام نہیں،، انتہاپسندی،،،
نفرت پھیلانے، تشدد پر اُکسانے والوں کے خلاف،، کیا کاروائی کی جارہی ہیں،،،اس لئے کے انتہاپسندی ہی دراصل دہشتگردی کو جنم دیتی ہے،،،
مگر افسوس، آپ خوفزدہ ہیں،،،
اور انتہا پسندی کے خلاف قدم اُٹھانے سے ڈرتے ہیں،،،
اُن بے گناہ کے لہو سے اپنی پیاس بُجھانے والے تو ظالم ہیں ہی، لیکن،
میاں صاحب،،
وہ بھی اُتنے ہی ظالم ہیں، جو اُنہیں پناہ دیتے ہیں، اور جو اُ ن کے یار ہیں۔
جو اُ ن کے لئے سہولتیں پیدا کرتے ہیں،
میاں صاحب،
آپ کی خاموشی، دہشتگردی کے خلاف ایک واضح پولیسی نہ ہونا، دہشتگروں کو مضبوط کر رہی ہے۔
معصوموں کا لہو آپ کو پکار رہا ہے،
کیا ہماری ماؤں کی گود تو ویران ہو گئی،
کچھ ایسا کرو کے پھر کسی مظلوم ماں کی گود ویران نہ ہو۔
دنیا ہمیں شِدّت پسند اور انتہاپسند سمجھتی ہے۔
آپ صرف قوم سے خطاب کر رہیں ہیں،،
اور وہ بھی کھوکھلا خطاب،،
جو کام ایک چھوٹی سی پریس رلیز سے ہو سکتا تھا، اُس کام کے لئے آپ نے، قوم کو گھنٹوں انتظار کروایا،،
قوم آپ سے سننا چاہتی تھی، کے کیسے، نیشنل ایکشن پلان پر عمل یقینی بنایا جائے گا۔
نیکٹا کا اجلاس کب بلایا جائیگا،،،
پارلیمنٹری نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کب بنائیں گے،،
ان دہشتگردوں کے خلاف کاروائی کیسے اور کب کریں گے۔۔۔
مگر افسوس!!
آپ کے خطاب نے، ایک بار پھر قوم کو مایوس کر دیا۔۔
آپ کے اس خطاب کے بعد، ایک چیز تو واضح ہو گئی ہے۔۔۔ کے
نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنے کی آپ کی نیت ہی نہیں ہے۔۔۔ یا
آپ میں اتنی اہلیت ہی نہیں ہے، کے آپ اس پر عمل کر سکیں۔
یا پھر۔۔۔ اس بات کو تسلیم کر لیں، کے آپ کو آپ کے وزراء اجازت ہی نہیں دیتے۔
اگر نیشنل ایکشن پلان پر عمل ہو رہا ہوتا، تو یہ کیسے ممکن ہے، کے اسلام آباد چار دن تک یرغمال بنا رہا۔
اگر نیشنل ایکشن پلان پر عمل ہو رہا ہوتا، اگر آپ کے وزراء، آپ کا ساتھ دے رہے ہوتے، تو یہ کیسے ممکن تھا، کے آپ کو پتا ہی نہ چلتا کے ہزاروں لوگ پنڈی سے اسلام آباد کیسے پہنچ گئے۔
اگر نیشنل ایکشن پلان پر عمل ہو رہا ہوتا، تو یہ کیسے ممکن تھا، کے وہ لوگ پارلیمنٹ کے سامنے بیٹھ کر، نفرت انگیز تقاریر کرتے رہے۔
اگر نیشنل ایکشن پلان پر عمل ہو رہا ہوتا، تو آپ اُ ن سے معاہدہ کیسے کر سکتے تھے،
جنہوں نے اس ملک کے صدر، وزیراعظم، چیف جسٹس اور چیف آف آرمی اسٹاف کے خلاف سرِ عام کیا کیا باتیں کیں۔
آپ ہوتے کون ہیں، نیشنل ایکشن پلان کی موجودگی میں اِنہیں معاف کرنے والے !!!
آپ اپنے وزیر داخلہ کو دیکھیں،
جب اپوزیشن کے خلاف بات کرنی ہو تو وہ تین تین گھنٹے کی پریس کانفرنس کرتے ہیں، مگر جب دہشتگردی کی مذمت کرنی ہو تو وہ غائب ہو جاتے ہیں۔
وہ حکیم اللہ مسعود کے لئے آنسو بہاتے ہیں،،
مگر جب میرا لاہور جلتا ہے، تو وزیر داخلہ مسنگ پرسن بن جاتا ہے۔
اور میں یہ بھی جانتا ہوں کے اس کے بعد، بہت جلد ایک اور تین گھنٹے کی پریس کانفرنس ہوگی۔۔
ہم باتیں بہت سن چکے ہیں،،
اب ہم عمل چاہتے ہیں،،،
ہم اپنے شہیدوں کا حساب چاہتے ہیں،،
میاں صاحب،،
میں نے اپنی ماں کی لاش اُٹھائی ہے، میں جانتا ہوں کے یہ دُکھ کیسا ہوتا ہے،،
آپ نہیں جانتے ورنہ پنجاب میں چُھپے ہوئے دہشتگردوں کو اتنا وقت نہ دیتے،،،
میں جانتا ہوں کے،،
آپ کچھ نہیں کریں گے۔۔۔
لیکن میں بلاول بھٹو، میں شہید کا نواسہ، میں شہید کا بیٹا، میں قسم کھاتا ہوں،،، کے میں ان دہشتگردوں سے لڑوں گا،، ہمارے سر کل بھی کٹے تھے، جُھکے نہیں تھے، اور ہم آج بھی سر اُٹھا کر جئیں گے، جان جاتی ہے تو جائے، سر کٹتا ہے تو کٹ جائے، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔۔
قتل گاہوں سے چن کر ہمارے عَلم،
اور نکالیں گے اُشاق کے قافلے
جن کی راہِ طلب سے ہمارے قدم،
مختصر کر چلے درد کے فاصلے

دوستو،،
مجھے معلوم ہے کے،
آج یہاں کشمیر سے بھی بہت سارے دوست آئے ہوئے ہیں،
میں اُ ن سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہوں، کے،
آپ کا بلاول بھٹو زرداری بہت جلد آپ کے پاس کشمیر آ رہا ہے۔
پی پی پی کی بنیاد ہی مسئلہ کشمیر پر رکھی گئی،
کشمیر ہمارے لئے کوئی زمین کا ٹکڑا نہیں ہے،
پی پی پی نے ہمیشہ وہاں امن اور خوش حالی کی جدوجہد کی ہے۔
اِس کے مسائل کو، یونائیٹڈ نیشنس میں ہمیشہ اُٹھایا ہے۔
آج میاں صاحب کی حکومت،
کشمیریوں کے بجائے، ہندوستان کی حکومت کو ترجیح دیتی ہے،
یہاں تک کہا جا رہا ہے، کے رمضان شوگر ملز سے بھی “را” کے ایجنٹس نکل رہے ہیں۔
کشمیر مسئلہ کو، میان صاحب کی حکومت نے سردکھانے کی نظر کر دیا ہے۔
کشمیر کی عوام کا مینڈیٹ چُرانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔۔
ہم یہ ہرگز نہیں ہونے دیں گے۔۔
سنو، کشمیر کے لوگو،
بلاول بھٹو کشمیریوں کی جدوجہد میں شامل ہونے آرہا ہے۔
اور اب کشمیر میں ہوگا۔۔
دما دم مست قلندر۔۔
میں آج گڑھی خدا بخش میں کھڑا ہو کر۔
اپنے شہیدوں سے مخاطب ہو کر،
آپ سب کو گواہ بنا کر وعدہ کرتا ہوں،
مجھے قسم ہے،،، گڑھی خدا بخش کے شہیدوں کی،،،
مجھے قسم ہے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی۔۔۔
مجھے قسم ہے بی بی شہید کی۔۔۔
کے جو وعدے انہوں نے اس قوم سے کئے تھے۔۔
وہ وعدے اب میں پورے کروں گا۔
جن غریبوں سے آپ محبت کرتے تھے،
ان کا ہاتھ میں نے تھام لیا ہے۔۔
میں عہد کرتا ہوں، کے، ہم اس ملک کو ایک ترقی پسند اور پر امن پاکستان بنائیں گے،،
میں عہدکرتا ہوں، کے ہم برابری اور مساوات پر مُبنی معاشرے کے لئے جدوجہد کریں گے۔
میں عہد کرتا ہوں، کے، ہم اس ملک سے بے روزگاری، غربت، بھوک اور افلاس کا خاتمہ کریں گے۔
میں عہد کرتا ہوں ، کے، ہم کشمیریوں کے ساتھ شانا بشانا کھڑے رہیں گے۔
میں جب تک زندہ ہوں،
میں بھٹو اور بی بی کا مِشن جاری رکھوں گا۔۔
نعرے، نعرے، نعرے، بھٹو
نعرے، نعرے، نعرے، بھٹو
نعرے، نعرے، نعرے، بھٹو
بھٹو دے نعرے،، بھٹو دے نعرے،، بھٹو دے نعرے
کل بھی بھٹو زندہ تھا
آج بھی بھٹو زندہ ہے
آپ سب کا شکریہ۔۔۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s